“Each atom glistens with the radiance divine; each breath proclaims: if we exist, then God is too.”
کائنات کا ہر ذرہ خدا کے نور سے چمک رہا ہے اور ہر سانس یہ کہتی ہے کہ اگر ہمارا وجود ہے تو خدا بھی موجود ہے۔
یہ شعر تصوف کے اس دلکش احساس کو جگاتا ہے کہ رب کا نور کائنات کے ہر چھوٹے سے ذرے میں پوری آب و تاب کے ساتھ دمک رہا ہے۔ شاعر نے انسان کی ہر سانس کو رب کی موجودگی کی گواہی بنا دیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا وجود اور ذاتِ باری تعالیٰ آپس میں گہرے جڑے ہوئے ہیں۔ بس اپنے سانس لینے اور جینے کو ہی محسوس کر لیں، تو خدا کے ہونے کا یقین خود بخود دل میں اتر جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
