“My restless spirit could not find composure in any way; I lost all mastery over my heart on the day of Eid.”
عید کے دن میری طبیعت کسی طرح بھی سنبھل نہ سکی اور اپنے دل پر میرا کوئی اختیار نہ رہا۔
عید یوں تو خوشیوں، باہمی ملن اور جشن کا دن ہے، لیکن فراق کے مارے عاشق کے لیے یہ تہوار محبوب کی کمی کا احساس اور گہرا کر دیتا ہے۔ جب دنیا مسرت کے رنگوں میں گم ہوتی ہے، تو تنہائی دل پر ایسا وار کرتی ہے کہ ضبط کا ہر بندھن ٹوٹ جاتا ہے۔ شاعر اسی اضطراب کا نوحہ کر رہا ہے کہ اس پرمسرت دن تمام تر کوششوں کے باوجود اس کا اپنے غمگین اور بے بس دل پر کوئی اختیار نہ رہا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
