“The philosopher finds no God in argument and debate; he seeks to untangle the thread, but cannot find its end.”
فلسفی کو بحث و مباحثے میں خدا نہیں ملتا؛ وہ الجھی ہوئی ڈور کو سلجھانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اسے اس کا سرا نہیں مل رہا۔
اس شعر میں شاعر نے عقل اور منطق کی بے بسی کو ایک بڑی دلکش مثال کے ذریعے بیان کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ دلائل اور بحث و مباحثے میں الجھا ہوا فلسفی اس شخص کی مانند ہے جو ڈور کو سلجھانے کی کوشش تو کر رہا ہے مگر اس کا سرا ہاتھ نہیں آتا۔ خدا کو خشک مناظروں کے ذریعے نہیں پایا جا سکتا، کیونکہ وہ فکری الجھنوں کا نہیں بلکہ دل کے خلوص اور روحانی احساس کا معاملہ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
