“Such restless yearning was not in my fate, else, O companion, was it so necessary that my eyes should fall only upon her?”
اگر بے چینیاں میرے مقدر میں نہ ہوتیں تو اے دوست، کیا یہ ضروری تھا کہ میری نظر انہی پر پڑتی؟
شاعر اپنے ہم نشیں سے ایک بڑا ہی دل نشیں شکوہ کر رہا ہے کہ میری قسمت میں تو یہ اضطراب اور بے قراری لکھی ہی نہیں تھی۔ پھر یہ کیسا اتفاق ہوا کہ میری نگاہ صرف اسی ایک چہرے پر جا کر ٹھہر گئی جس نے مجھے چین سے نہ رہنے دیا؟ یہ شعر اس بے بسی کو خوبصورتی سے پیش کرتا ہے جہاں محبت کی ایک نظر انسان کا سارا سکون چھین کر اسے میٹھی تڑپ کے حوالے کر دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
