معترض کیوں ہو اگر سمجھے تمہیں صیاد دل ایسے گیسو ہوں تو شبہ دام کا ہو یا نہ ہو

“Why take offense if the heart deems you a hunter? With tresses such as yours, how could one not suspect a snare?”

— اکبر الہ آبادی
معنی

اگر دل آپ کو شکاری سمجھے تو اس پر اعتراض کیوں کرتے ہیں؛ جب ایسی خوبصورت زلفیں ہوں تو جال کا شک ہونا بالکل فطری ہے۔

تشریح

شاعر شوخی اور محبت بھرے لہجے میں محبوب سے کہتا ہے کہ اگر دل نے آپ کو صیاد یعنی شکاری سمجھ لیا ہے تو اس پر خفا ہونے کی کیا بات ہے۔ آپ کی دلکش اور لہراتی زلفیں اتنی پُرکشش ہیں کہ انہیں دیکھ کر جال کا گمان ہونا بالکل فطری ہے۔ یہاں محبوب کے حسن کی تعریف ایک خوبصورت استعارے میں کی گئی ہے، جہاں دل خود بہ رضا و رغبت اس زلف کے دام میں گرفتار ہونا چاہتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.