“I never harbored any hope from the turning skies, nor did I ever let a single longing rise.”
مجھے آسمان (قسمت) سے کبھی کوئی امید تھی ہی نہیں، اور نہ ہی میں نے کبھی کوئی خواہش کی۔
اردو شاعری میں ’چرخ‘ یعنی گردش کرتے آسمان کو بے مروت قسمت اور بے پروا زمانے کا استعارہ سمجھا جاتا ہے۔ شاعر بڑی خودداری مگر گہرے رنج کے ساتھ کہتا ہے کہ جب مقدر سے کسی عنایت کی توقع ہی نہ تھی، تو دل میں آرزوئیں سجا کر خود کو دکھ کیوں دیا جاتا؟ یہ شعر اس کیفیت کی خوبصورت تصویر ہے جہاں انسان بار بار ٹوٹنے کے خوف سے ہر خواہش اور امید سے اپنا دامن چھڑا لیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
