چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیں آرزو میں نے کوئی کی ہی نہیں

“I never harbored any hope from the turning skies, nor did I ever let a single longing rise.”

— اکبر الہ آبادی
معنی

مجھے آسمان (قسمت) سے کبھی کوئی امید تھی ہی نہیں، اور نہ ہی میں نے کبھی کوئی خواہش کی۔

تشریح

اردو شاعری میں ’چرخ‘ یعنی گردش کرتے آسمان کو بے مروت قسمت اور بے پروا زمانے کا استعارہ سمجھا جاتا ہے۔ شاعر بڑی خودداری مگر گہرے رنج کے ساتھ کہتا ہے کہ جب مقدر سے کسی عنایت کی توقع ہی نہ تھی، تو دل میں آرزوئیں سجا کر خود کو دکھ کیوں دیا جاتا؟ یہ شعر اس کیفیت کی خوبصورت تصویر ہے جہاں انسان بار بار ٹوٹنے کے خوف سے ہر خواہش اور امید سے اپنا دامن چھڑا لیتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.