لفظ کے معنی

हक़ीर

haqīr

hiadjective

معنی

کم تر، بے وقعت، ذلیل، یا ناچیز۔

تفصیل

کلاسیکی اردو شاعری میں 'حقیر' کا اطلاق بے قیمت، کم تر یا بے وقعت شخص پر ہوتا ہے۔ اس شعر میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ عشق کے سبب عاشق معاشرے اور نظروں میں بے عزت و خوار ہو گیا۔ یہ لفظ عشق میں عاشق کی خود سپردگی، عاجزی اور تذلیل کی حالت کو ظاہر کرتا ہے۔

اصل

From Arabic حَقِير (ḥaqīr), from the root ح-ق-ر (ḥ-q-r), meaning 'to be small, despised, or contemptible'.

استعمال

In the ghazal tradition, poets use 'haqīr' both to express extreme humility before the beloved and to mourn the loss of worldly dignity caused by love.

مثالیں

حقیر جان کے ٹھوکر نہ ماریے ہم کو

ترے کرم سے حقیر ذرہ بھی آفتاب ہوا

ہم معنی

नाचीज़तुच्छकमतरबेवक़्अ़त

متعلقہ الفاظ

हिक़ारतफ़क़ीरज़लीलबेक़द्र
← لغت پر واپس