لفظ کے معنی
सफ़ीना
safīna
hinoun, masculine
معنی
کشتی، ناؤ یا جہاز۔
تفصیل
کلاسیکی اردو شاعری میں 'سفینہ' کشتی یا ناؤ کو کہتے ہیں جو اکثر زندگی کے پرخطر سفر یا عاشق کے دل کی علامت کے طور پر برتی جاتی ہے۔ غالب کے شعر میں یہ اس کشتی کی طرف اشارہ ہے جو ملاح کے تمام مظالم کے بعد آخرکار ساحل پر آ لگی۔ ادبی اصطلاح میں اشعار کی بیاض کو بھی سفینہ کہا جاتا ہے۔
اصل
Arabic (سَفِينَة, safīnah), from the root s-f-n pertaining to scraping or paring the surface of the sea.
استعمال
In the ghazal tradition, 'safīna' is frequently paired with 'nākhudā' (captain) and 'bahr' (sea) to express vulnerability against destiny.
مثالیں
سفینہ موجِ بلا میں گھرا ہوا تھا۔
سفر کا حال سفینے کے ڈوبنے سے کھلا۔
ہم معنی
किश्तीनावज़ोरक़
متعلقہ الفاظ
ना-ख़ुदातूफ़ानमौजाकिनारा
