لفظ کے معنی
सताया
satāyā
hiverb
معنی
تنگ کیا، دکھ دیا یا اذیت پہنچائی۔
تفصیل
اردو شاعری میں 'ستایا' سے مراد محبوب کا جفا یا زمانے کے مصائب ہیں جو عاشق کو بے کل کر دیتے ہیں۔ اس شعر میں میرؔ کو اس حد تک اذیت پہنچانے کی بات کی گئی ہے کہ ان کا نالہ اور فریاد عرش تک پہنچ رہی ہے۔
اصل
From Sanskrit सन्ताप (santāpa) / सन्तप्त (santapta) through Prakrit to Hindustani सताना (satānā).
استعمال
Frequently used in the ghazal tradition to evoke the beloved's indifference or cruelty (jafā/sitam) toward the suffering lover.
مثالیں
دلِ بے قرار کو ستایا گیا
زمانے نے ہر روز ستایا ہمیں
ہم معنی
तड़पायातंग कियादुखायाकष्ट दिया
متعلقہ الفاظ
सतानासितमआज़ारग़म-कश
