لفظ کے معنی

सिया

siyā

hiverb

معنی

سینا کا ماضی، سلا ہوا یا ٹانکا لگا ہوا۔

تفصیل

اس شعر میں 'سیا' مصدر 'سینا' کا صیغۂ ماضی ہے جو ترکیب 'سیا گیا' کی صورت میں مستعمل ہے۔ یہ رفوگر کے اس ناکام عمل کی طرف اشارہ کرتا ہے جس سے عاشق کے چاک دل کو سینے کی کوشش کی گئی۔ شاعر کا مدعا ہے کہ غمِ عشق کا یہ شگاف اس قدر وسیع تھا کہ بالآخر سلا نہ جا سکا۔

اصل

Derived from Sanskrit 'sīvyati' (sews) and 'sīvana' (sewing), which evolved through Prakrit into Hindustani 'sīnā'.

استعمال

In classical Urdu ghazal, the act of sewing (siyā jānā) is predominantly used in metaphorical struggles between the rafūgar (healer/darner) and the torn garment or heart of the distraught lover.

مثالیں

زخمِ جگر کو ہم نے ہر چند سیا تھا

لب سیا اس نے تو افسانہ مکمل نہ ہوا

ہم معنی

सिलारफ़ू कियाटाँका हुआ

متعلقہ الفاظ

सीनारफ़ूटाँकासुई
← لغت پر واپس