لفظ کے معنی
सितमगार
sitamgaar
hinoun / adjective
معنی
ظالم، جفا کار، ستم ڈھانے والا؛ عموماً معشوق۔
تفصیل
کلاسیکی اردو شاعری میں 'ستم گار' اس شخص کو کہتے ہیں جو جور و ظلم ڈھائے، اور یہ عموماً معشوق کی صفت کے طور پر مستعمل ہے۔ اس شعر میں یہ محبوب کے لیے ایک شکوہ آمیز ندائیہ ہے جس کے کوچے میں عاشق بے دریغ قتل ہو رہے ہیں۔ یہ لفظ محبوب کی بے رخی اور سفاکی کے روایتی مضمون کو نمایاں کرتا ہے۔
اصل
Persian compound formed from 'sitam' (tyranny, injustice) and the agentive suffix '-gār' (doer).
استعمال
A frequent trope in the ghazal tradition used as a complaint against the beloved's deliberate emotional cruelty.
مثالیں
کوچۂ ستم گار میں تسکین کی تلاش کیسی
اے ستم گار ترے ظلم کی حد کوئی نہیں
ہم معنی
ज़ालिमजफ़ाकारबेदर्द
متعلقہ الفاظ
सितमसितमज़दासितम-पेशा
