لفظ کے معنی
सितम-ईजाद
sitam-eejad
hiadjective
معنی
ظلم کے نئے طریقے ایجاد کرنے والا؛ جفا کار محبوب
تفصیل
یہ مرکب لفظ محبوب کے لیے بطور صفت استعمال ہوتا ہے جو عاشق پر ستم ڈھانے کے نت نئے انداز تراشتا ہے۔ اس شعر میں شاعر معشوق کو 'ستم ایجاد' کہہ کر مخاطب کرتا ہے کہ اس کا نالہ کوئی فریاد نہیں بلکہ مزید ستم کی التجا ہے۔ یہ غزل کے اس روایتی موضوع کو ظاہر کرتا ہے جس میں عاشق اپنے محبوب کی ہر جفا پر راضی رہتا ہے۔
اصل
Compound of Persian 'sitam' (oppression, tyranny) and Arabic 'ījād' (creation, invention).
استعمال
Commonly employed in the Urdu ghazal as an endearing yet hyperbolic term of address for the merciless beloved.
مثالیں
اے ستم ایجاد، تیرے ہر نئے انداز پر جاں نثار ہے
اس ستم ایجاد کی ہر ادائے جفا انوکھی ہے
ہم معنی
सितमगरजफ़ाकारज़ालिमबेदर्द
متعلقہ الفاظ
सितमईजादसितम-पेशहबेदाद
