لفظ کے معنی
साक़िया
saqiya
hinoun
معنی
اے ساقی! (شراب پلانے والے کو خطاب)
تفصیل
کلاسیکی اردو شاعری میں 'ساقیا' دراصل 'ساقی' کی ندائیہ حالت ہے، یعنی 'اے ساقی!'۔ شاعر شراب کی طلب، روحانی فیض یا اپنے جذباتی احوال کے بیان کے لیے ساقی کو اس نام سے مخاطب کرتا ہے۔ زیرِ بحث شعر میں ساقی کو پکار کر محبوب کی نگاہِ مست کی تاثیری کیفیت اور مسجد کے مے خانے میں بدلنے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
اصل
Arabic 'saqi' (one who pours water or wine) combined with the Persian vocative suffix '-a'.
استعمال
A common apostrophic device in the ghazal, evoking both earthly taverns and metaphorical Sufi intoxication.
مثالیں
پلا دے جامِ مے ہم کو بھی ساقیا
تری نگاہ کا صدقہ اتار ساقیا
ہم معنی
ऐ साक़ी
متعلقہ الفاظ
साक़ीमयख़ानाजामपैमाना
