لفظ کے معنی
शरारत
sharārat
hinoun
معنی
شوخی، فتنہ پردازی، چھیڑ چھاڑ یا ستم ظریفی۔
تفصیل
کلاسیکی اردو شاعری میں 'شرارت' محبوب کی شوخی، فتنہ سامانی اور تڑپانے والی اداؤں کے لیے مستعمل ہے۔ اس شعر میں اس سے مراد جلوۂ حسن یا الٰہی تجلی کی وہ چھیڑ چھاڑ ہے جس نے کوہِ طور کو راکھ کیا اور عاشق پر بھی ستم ڈھایا۔ یہ اصطلاح تخریب اور شوخی کے امتزاج کو خوبصورتی سے ظاہر کرتی ہے۔
اصل
Arabic (root sh-r-r, associated with evil, sparks, or mischief).
استعمال
Commonly used to portray the beloved's tantalizing, ruinous playfulness or the teasing cruelty of destiny.
مثالیں
نگاہِ ناز کی شرارت نہ پوچھئے صاحب۔
دلِ مضطر نے پھر کوئی شرارت کی ہے۔
ہم معنی
शोख़ीनटखटपनदंगाफ़ित्ना
متعلقہ الفاظ
शरीरशर्शोख़फ़ित्ना-गर
