لفظ کے معنی

मजबूरों

majbūron

hinoun

معنی

بے بس اور لاچار لوگ جن کے پاس اختیار نہ ہو

تفصیل

اس سے مراد وہ افراد ہیں جو سراسر بے بس، لاچار اور قضا و قدر کے پابند ہوں۔ اس شعر میں میر تقی میر انسانوں کو مجبور محض قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان پر خودمختاری اور ارادے کا ناحق الزام لگایا گیا ہے۔

اصل

From Arabic 'majbūr' (مجبور), the passive participle of the root j-b-r (جبر, meaning compulsion or force), combined with the Hindustani plural oblique suffix '-on' (ों).

استعمال

In classical ghazal poetry, 'majbūr' often embodies the philosophical tension between divine predestination (jabr) and human moral accountability.

مثالیں

مجبوروں کی فریاد عرش تک جاتی ہے

ہم مجبوروں کا کوئی پرساں حال نہیں

ہم معنی

बेबसोंलाचारोंकमज़ोरों

متعلقہ الفاظ

मजबूरीजबरमुख़्तार
← لغت پر واپس