لفظ کے معنی

मिज़राब

mizraab

hinoun

معنی

ساز یا تار چھیڑنے کا آلہ؛ زخمہ۔

تفصیل

مضراب اس آلے یا چھلے کو کہتے ہیں جس سے ساز کے تار چھیڑے جاتے ہیں۔ اس شعر میں غالب نے غم کے ناخن کو سانس کے تار کے لیے مضراب قرار دیا ہے جو دلخراش کیفیت پیدا کرتا ہے۔ یہ لفظ عشرت کی محفل کے برعکس شاعر کے باطنی کرب اور رنج و الم کی ترجمانی کرتا ہے۔

اصل

Arabic, derived from the root 'ḍ-r-b' (to strike), structured as an instrumental noun (ism al-ālah).

استعمال

In classical Urdu poetry, it is widely used as a metaphor for sorrow or fate repeatedly striking the strings of the heart.

مثالیں

مضرابِ درد سے تڑپ اٹھا سازِ دل

تارِ نفس پر مضراب کی چوٹ

ہم معنی

ज़ख़्माकोण

متعلقہ الفاظ

साज़तारनग़्मा
← لغت پر واپس