لفظ کے معنی
बलवा
balwa
hinoun
معنی
ہنگامہ، فساد، اودھم یا کھلبلی۔
تفصیل
کلاسیکی اردو شاعری میں 'بلوہ' سے مراد فتنہ، ہنگامہ یا فساد ہے۔ اس شعر میں شاعر مبالغے کے ساتھ کہتا ہے کہ اگر شانے نے محبوب کی زلف کا ایک تار بھی کھینچا تو سارے عالم میں کھلبلی اور ہنگامہ برپا ہو جائے گا۔ یہ لفظ محبوب کے حسن کے عالمگیر اثر اور عاشقوں کے اضطراب کو ظاہر کرتا ہے۔
اصل
Arabic (balwā, affliction or trial), assimilated into Persian and Urdu with the meaning of riot, tumult, or insurrection.
استعمال
In the ghazal, the term is commonly used as a poetic hyperbole to equate the allure or movements of the beloved to an all-out civil insurrection.
مثالیں
کوچے میں ترے حسن کا بلوہ دیکھا
شہر میں ہر طرف عجب بلوہ برپا ہوا
ہم معنی
हंगामाफ़सादकोहरामबखेड़ा
متعلقہ الفاظ
फ़ित्नाआशोबक़यामत
