لفظ کے معنی

बख़्शो

bakhsho

hiverb

معنی

معاف کرو، جانے دو، درگزر کرو۔

تفصیل

اردو شاعری میں 'بخشو' فعل 'بخشنا' کا امر یا التجا کا صیغہ ہے، جس کا مطلب معاف کرنا، درگزر کرنا یا چھوڑ دینا ہے۔ اس شعر میں یہ محاوراتی انداز میں بات ختم کرنے یا شکوے کے طور پر استعمال ہوا ہے کہ اب جانے بھی دیجیے اور معاف کیجیے، کیا سارے جہان میں صرف میں ہی برا ہوں۔

اصل

Derived from Persian 'bakhshidan' (بخشودن / بخشیدن), meaning to bestow, grant, or forgive.

استعمال

In ghazal idiom, 'bakhsho bhi' often conveys exasperation or a weary plea to drop the accusations and let the lover be.

مثالیں

میری خطا کو بخشو بھی اب۔

بخشو جان میری، ستم نہ ڈھاؤ۔

ہم معنی

माफ़ करोक्षमा करोदरगुज़र करो

متعلقہ الفاظ

बख़्शिशबख़्शनाबख़्शंदा
← لغت پر واپس