لفظ کے معنی
बे-दिल-पसंद
Bedil-pasand
معنی
مرزا بیدل کے انداز کا؛ بیدل کو پسندیدہ۔
تفصیل
اس شعر میں یہ ترکیب فارسی کے عظیم استاد مرزا عبد القادر 'بیدل' کے نازک اور دقیق اسلوب کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اگرچہ لغوی اعتبار سے 'بے دل' کا مطلب بے قرار یا دل کے بغیر ہے، مگر یہاں مراد بیدل کا پسندیدہ یا ان کے طرزِ فکر کے موافق اندازِ سخن ہے۔ غالب اپنے نئے مضامین کو بیدل کے تخیلاتی معیار کے مطابق قرار دیتے ہیں۔
اصل
Persian compound formed from 'Bedil' (takhallus of Mirza Abdul Qadir; literally 'be-' without + 'dil' heart) and 'pasand' (from 'pasandīdan', to like or choose).
استعمال
Employed in Urdu ghazal as a poetic allusion (talmīh) to evoke Mirza Bedil's cerebral style, occasionally carrying a pun on the literal sense of being 'heartless'.
مثالیں
ان کے کلام میں بیدل پسند گہرائی اور اچھوتی تشبیہات ملتی ہیں۔
یہ پرپیچ مضمون کسی بیدل پسند شاعر ہی کے قلم کا کمال ہو سکتا ہے۔
