لفظ کے معنی
बाज-ख़्वाह
bāj-khwāh
hinoun
معنی
خراج یا تاوان طلب کرنے والا؛ محصول مانگنے والا۔
تفصیل
کلاسیکی اردو اور فارسی شاعری میں 'باج خواہ' خراج یا تاوان مانگنے والے کو کہا جاتا ہے۔ غالب کے اس شعر میں وحشت کو دل کے کھوئے ہوئے چین و سکون کا تاوان مانگنے والا ٹھہرایا گیا ہے۔ یہ لفظ یہاں کسی بے باک دعوے دار کی مانند اپنے حق کی وصولی کو ظاہر کرتا ہے۔
اصل
Persian: compound of 'bāj' (tribute, tax, toll) and 'khwāh' (present stem of 'khwāstan', meaning to demand or wish).
استعمال
In classical ghazal poetry, it is used metaphorically for a relentless claimant demanding recompense or toll.
مثالیں
باج خواہِ سکوں بن کر دل کی بے قراری ابھری
عشق ہر قدم پر ایک نیا باج خواہ بن گیا
ہم معنی
खिराज-तलबमुद्दईदावागीर
متعلقہ الفاظ
बाजख़्वाहिशख़ूँ-बहातस्कीं
