لفظ کے معنی
नाज़-बर्दारियाँ
nāz-bardāriyāṅ
معنی
ناز و نخرے اٹھانے اور خوشامد برداشت کرنے کی حالتیں۔
تفصیل
اس سے مراد محبوب کے ناز و نخرے، ادائیں اور عِشوہ طرازی برداشت کرنے اور اس کے لاڈ اٹھانے کے معاملات ہیں۔ اس شعر میں عاشق کی اس طویل رنجش اور تھکن کا بیان ہے جہاں محبوب کی ادائیں اور ستم سہتے سہتے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ یہ شعر عاشق کے تسلیم و رضا اور بالآخر عاجز آ جانے کو ظاہر کرتا ہے۔
اصل
Persian compound formed from 'nāz' (coquetry, pride, grace) and the agentive 'bardār' (from 'bardāshtan', to bear/carry), with the abstract noun suffix '-ī' and the Hindustani plural marker '-āṅ'.
استعمال
A frequent motif in classical ghazal poetry to denote the patient lover's continuous submission to the beloved's aloof and whimsical temperament.
مثالیں
مدت سے جاری تھیں تری ناز برداریاں
ہم سے نہ ہوں گی اب یہ ناز برداریاں
