لفظ کے معنی

धोका

dhokā

hinoun, masculine

معنی

فریب، سراب، التباس یا دھوکا۔

تفصیل

کلاسیکی غزل میں لفظ 'دھوکا' فریبِ نظر اور التباس کے معنوں میں بھی خوب استعمال ہوتا ہے۔ میر کے شعر میں عشق کی آگ میں وجود اس حد تک پگھل کر فنا ہو چکا ہے کہ لباس کے اندر محض ایک وجود ہونے کا گمان یا سراب سا رہ گیا ہے۔ یہ عاشق کے کمالِ لاغری اور فنا کی کیفیت کا بیان ہے۔

اصل

Derived from Middle Indo-Aryan / Prakrit roots signifying misdirection, trickery, or optical illusion.

استعمال

In poetry, it conveys existential frailty or the deceptive appearance of life in a wasting body.

مثالیں

آنکھوں کا دھوکا

اک دھوکا سا رہ جانا

ہم معنی

भ्रमछलावाफ़रेबसराब

متعلقہ الفاظ

धोकेबाज़धोकेबाज़ीदग़ा
← لغت پر واپس