لفظ کے معنی

दबा

daba

hiverb

معنی

زیر ہوا، مغلوب ہوا، قابو میں آیا

تفصیل

کلاسیکی اردو شاعری میں 'دبا' (لازمی فعل 'دبنا' کا ماضی) کا مطلب مغلوب ہونا، قابو میں آنا یا عاجز ہونا ہے۔ غالب کے اس شعر میں یہ محبوب کی سرکش زلفوں کے لیے آیا ہے جو چہرے کے نوخیز خط سے بھی مغلوب نہ ہوئیں۔ یہ لفظ کسی دباؤ یا حریف کے سامنے جھکنے سے انکار کو ظاہر کرتا ہے۔

اصل

Sanskrit 'dambayati' / Prakrit 'dabba-', evolving into Hindustani 'dabnā' (to be pressed down, yielded).

استعمال

Commonly used in ghazal poetry to denote pride, wild passion, or the refusal of a lover's heart to bow before adversity.

مثالیں

دل سرکش کسی کے رعب سے نہ دبا

شعلۂ غم کسی تدبیر سے نہ دبا

ہم معنی

झुकामग़लूब हुआज़ेर हुआथमा

متعلقہ الفاظ

दबनादबानादबिशदबदबा
← لغت پر واپس