لفظ کے معنی
दाद-ख़्वाहों
dād-khwāhon
معنی
انصاف چاہنے والے، فریادی یا داد کے طلب گار لوگ۔
تفصیل
کلاسیکی اردو شاعری میں 'داد خواہ' اس فریادی کو کہتے ہیں جو محبوب یا فلک کے ستم کے خلاف انصاف اور داد کا طلب گار ہو۔ اس شعر میں یہ ان فریادیوں کے لیے مستعمل ہے جن کی پکار کو روزِ قیامت کلمۂ 'کُن' نے سماعت بخشی۔ یہ لفظ ان تمام مظلوموں کی نمائندگی کرتا ہے جو محشر میں انصاف کے منتظر ہیں۔
اصل
Persian compound of 'dād' (justice, redress) and the stem 'khwāh' (desiring, seeking; from 'khwāstan', to wish or seek), with the Hindustani plural oblique marker '-on'.
استعمال
In the ghazal, it typically depicts lovers pleading for redress against the beloved's tyranny or standing before the divine tribunal on the Day of Reckoning.
مثالیں
دربار میں دادخواہوں کا مجمع لگا تھا۔
کوئی نہ تھا جو دادخواہوں کی فریاد سنتا۔
