لفظ کے معنی
तलबगार
talabgaar
معنی
چاہنے والا، متلاشی، یا کسی شے کا آرزومند۔
تفصیل
کلاسیکی اردو شاعری میں 'طلب گار' سے مراد وہ شخص ہے جو کسی شے، بالخصوص عشق یا توجہ کی چاہ اور تلاش رکھتا ہو۔ اس شعر میں یہ لفظ 'خریدار' کے ہم معنی بن کر دل کی قدر دانی اور اس کے متلاشی کے مفہوم میں آیا ہے۔ یہ اس المیے کو ظاہر کرتا ہے کہ دنیا کی اس منڈی میں عاشق کے دل کی جنس کا کوئی بھی قدر شناس یا چاہنے والا موجود نہیں۔
اصل
Compound word formed from Arabic 'ṭalab' (طلب, desire, seeking, or demand) and the Persian agentive suffix '-gār' (گار, doer or possessor).
استعمال
Frequently deployed in ghazals to frame the lover as a suppliant seeking grace, or within mercantile metaphors where emotions and hearts are commodities seeking an appreciative buyer.
مثالیں
بازارِ وفا میں کوئی اس حسن کا طلب گار نہ تھا۔
ہم تو بس اک نگاہِ کرم کے طلب گار رہے۔
