لفظ کے معنی
तक़्सीर
taqsīr
hinoun
معنی
قصور، گناہ، خطا یا لغزش۔
تفصیل
کلاسیکی اردو شاعری میں 'تقصیر' سے مراد کوتاہی، لغزش یا گناہ ہے۔ زیرِ بحث شعر میں عاشق شکوہ کرتا ہے کہ محبوب کی دل آزاری کو تو بے سبب سمجھ کر معاف کر دیا گیا مگر کیا دوستوں کو عاشق ہی کا کوئی قصور دکھائی دیا۔
اصل
Arabic root ق-ص-ر (q-ṣ-r), related to shortness, deficiency, or negligence; Form II verbal noun 'taqṣīr' meaning falling short or omission.
استعمال
Frequently used in the ghazal tradition when an aggrieved lover addresses accusations of guilt or seeks pardon from an indifferent beloved.
مثالیں
معاف کرنا میری ہر اک تقصیر کو
عاشق کی تقصیر پر ناراض نہ ہو
ہم معنی
दोषख़ताक़ुसूरभूल
متعلقہ الفاظ
क़ुसूरख़तामुक़स्सिरक़ासिर
