لفظ کے معنی
ठहरी
ṭhahrī
hiverb
معنی
رکی، ٹھہری، قیام پذیر ہوئی۔
تفصیل
کلاسیکی اردو شاعری میں یہ فعل کسی جگہ یا حالت میں رکنے، قیام کرنے یا قرار پانے کے معنوں میں مستعمل ہے۔ زیرِ بحث شعر میں میر تقی میر فرماتے ہیں کہ لبوں پر آئی ہوئی جان ذرّہ بھر بھی نہ ٹھہری، حالانکہ محبوب سے گفتگو کی تمنا باقی تھی۔
اصل
Hindustani verb derived from Prakrit / Sanskrit roots related to staying or stabilizing (cf. स्थिर / sthira).
استعمال
Commonly employed in ghazals to evoke themes of transience, instability of life, or an unyielding restlessness of the heart.
مثالیں
نہ ٹھہری دم بھر بھی یہ بےقرار آنکھ۔
ہوا کے دوش پر شمع کب تک ٹھہری۔
ہم معنی
रुकीथमीटिकी
متعلقہ الفاظ
ठहरनाठहरावठहर
