لفظ کے معنی
जफ़ा-साइल
jafā-sā'il
hiadjective
معنی
ظلم و ستم کا طلب گار یا بھکاری۔
تفصیل
یہ فارسی 'جفا' (ظلم و ستم) اور عربی 'سائل' (مانگنے والا یا سوالی) کا مرکب ہے۔ کلاسیکی اردو غزل میں اس سے مراد وہ عاشق ہے جو معشوق کی توجہ پانے کے لیے اس کے ستم کا بھی طلب گار بن جاتا ہے۔ اس شعر میں اسد بتاتے ہیں کہ نہ وہ خود ظلم کے طالب تھے اور نہ محبوب بلاوجہ ستم گر، بلکہ یہ سراسر محبت کی آزمائش تھی۔
اصل
Compound of Persian 'jafā' (cruelty, torment) and Arabic 'sā'il' (beggar, petitioner, from the root s-'-l meaning to ask).
استعمال
It is used in classical ghazal to evoke the lover's extreme submission, willingly seeking torment from the beloved.
مثالیں
کوئے بتاں میں دل جفا سائل رہا۔
ہم عشق میں فقط جفا سائل بن کر رہ گئے۔
ہم معنی
सितम-तलबजफ़ा-कशजफ़ा-जो
متعلقہ الفاظ
जफ़ासाइलजफ़ा-कारसितम-रसीदा
