لفظ کے معنی

ज़रा

zarā

hiadverb

معنی

تھوڑا، ذرا سا، بس ایک لمحہ۔

تفصیل

اردو شاعری میں 'ذرا' بطور اسم صفت یا متعلق فعل استعمال ہوتا ہے جس کا مفہوم تھوڑا، قدرے، یا لمحہ بھر ہے۔ اس شعر میں یہ عاشق کی عاجزانہ التجا کو ظاہر کرتا ہے کہ محبوب بس تھوڑا سا پردہ اٹھا کر غصے ہی میں سہی مگر آنکھیں دکھا دے۔ یہ لفظ معشوق کی بے رخی کے مقابلے میں عاشق کی ادنیٰ ترین خواہش کو اجاگر کرتا ہے۔

اصل

Arabic ذَرَّة (speck, particle, atom), evolving through Persian into an adverbial expression of small quantity or brief duration in Hindustani.

استعمال

Frequently utilized in ghazals to express the lover's modest, desperate entreaties for the beloved's fleeting attention.

مثالیں

ذرا ٹھہرو کہ دم سنبھل جائے

ذرا ادھر بھی رخ زیبا کیجیے

ہم معنی

तनिकथोड़ाक़द्रेज़रा-सा

متعلقہ الفاظ

ज़र्राथोड़ाक़तरा
← لغت پر واپس