لفظ کے معنی
ख़ूगर
khūgar
معنی
عادی، خوپذیر، یا ستم و درد سے مانوس۔
تفصیل
کلاسیکی اردو شاعری میں 'خوگر' سے مراد وہ کیفیت ہے جس میں دل مسلسل رنج، مصیبت یا محبوب کے جور و جفا کا عادی ہو جائے۔ اس شعر میں یہ اس دل کی ترجمانی کرتا ہے جس نے بے شمار تکالیف اور عذاب برداشت کر کے محبوب کے ستم سے مانوسیت حاصل کر لی ہے۔ یہ لفظ غم و اندوہ کی دائمی عادت اور اس پر دل کے سمجھوتے کو بیان کرتا ہے۔
اصل
Persian: derived from 'khū' (خو, habit, nature, or disposition) combined with the agent suffix '-gar' (گر, one who does or possesses).
استعمال
In the ghazal tradition, 'khūgar' is almost always used in compound phrases like 'khūgar-e-sitam' or 'khūgar-e-dard' to convey the lover's normalized relationship with suffering.
مثالیں
دل جو تیرے ستم کا خوگر ہوا، پھر کسی شکوے کے قابل نہ رہا۔
خوگرِ درد کو درماں کی تمنا نہ رہی۔
