لفظ کے معنی

इमरोज़

imroz

hiadverb

معنی

آج؛ موجودہ دن یا وقت۔

تفصیل

کلاسیکی اردو شاعری میں 'امروز' کا مطلب 'آج' یا موجودہ زمانہ ہے، جو بالعموم 'فردا' (آنے والے کل) کے مقابلے میں آتا ہے۔ زیر نظر شعر میں یہ زندگی کی ناپائیداری کو ظاہر کرتا ہے کہ جان اگر آج نہیں نکلی تو کل ضرور چلی جائے گی۔ یہ شعر وقت کے زیاں اور موت کے حتمی ہونے کا بلیغ اظہار ہے۔

اصل

Persian (امروز / imrūz), formed from 'īn' (this) and 'rūz' (day).

استعمال

Frequently juxtaposed with 'farda' (tomorrow) in ghazals to express the futility of worldly procrastination and the swift transience of human life.

مثالیں

امروز و فردا کی کشمکش

گئی گر نہ امروز فردا گئی

ہم معنی

आजहालवक़्त-ए-हाज़िर

متعلقہ الفاظ

फ़र्दादीरोज़रोज़इमरोज़-ओ-फ़र्दा
← لغت پر واپس