لفظ کے معنی

इज़्तिरार

iztirar

hinoun

معنی

بے چینی، بے قراری، تڑپ یا بے بسی۔

تفصیل

کلاسیکی شاعری میں اضطرار سے مراد شدید بے قراری، بے چینی اور بے بسی کی وہ کیفیت ہے جو جذبۂ عشق یا درد سے پیدا ہوتی ہے۔ زیر نظر شعر میں یہ اس اضطرابی کیفیت کا بیان ہے جو عاشق کی نظر کو حیرت اور نگرانی کے پیمانے پر لا کھڑا کرتی ہے۔ یہ ضبط کے ٹوٹنے اور بے قابو تڑپ کا مظہر ہے۔

اصل

Arabic root ض-ر-ر (ḍ-r-r), Form VIII verbal noun (ifti'āl) denoting duress, compulsion, or uncontrollable perturbation.

استعمال

Commonly used in ghazals to contrast with 'qarar' (composure), portraying the involuntary trembling and anguish of an afflicted heart.

مثالیں

دل کے اضطرار کو ذرا قرار نہ آیا۔

عالم اضطرار میں گریبان چاک کرنا۔

ہم معنی

बेक़रारीबेचैनीतड़पबेबसी

متعلقہ الفاظ

इज़्तिराबमुज़्तरिबज़रूरत
← لغت پر واپس
इज़्तिरार meaning | Sukhan AI