“Poverty strips away the bloom of spring, and robs a man of trust in everything.”
غربت زندگی کی تمام تر رونقیں اور خوشیاں ختم کر دیتی ہے اور انسان کا وقار اور اعتبار چھین لیتی ہے۔
یہ شعر غربت کے اس تلخ سچ کو بے نقاب کرتا ہے جو انسان سے نہ صرف زندگی کی مسرتیں بلکہ اس کا وقار بھی چھین لیتی ہے۔ 'بہار' دراصل خوشحالی، رونق اور شادابی کی علامت ہے جو ناداری کے آتے ہی ماند پڑ جاتی ہے۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ مادہ پرست دنیا اکثر کردار کی سچائی کو دولت کے ترازو میں تولتی ہے، اور یوں مفلسی ایک باوقار شخص کا اعتبار اور معاشرے میں اس کی ساکھ تک پامال کر دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
