“With that heart-ravishing beloved, my heart has forged a true union; to behold their radiant sight is the sole prayer of my eyes.”
جس محبوب سے میرے دل کا گہرا تعلق اور اتحاد ہے، اس کا دیدار ہی میری آنکھوں کی سب سے بڑی خواہش اور مراد ہے۔
دکنی شاعری کے اس دلکش شعر میں شاعر دل اور محبوب کے درمیان قائم گہرے قلبی اور روحانی رشتے کو بڑی سادگی سے بیان کر رہا ہے۔ جب دل اپنے محبوب کے ساتھ اس طرح یکجا ہو جائے کہ دونوں کے درمیان کوئی دوری نہ رہے، تو دنیا کی تمام طلب سمٹ کر محبوب کی صورت پر ٹھہر جاتی ہے۔ یہاں دیدار کی تمنا محض ایک خواہش نہیں، بلکہ ترسی ہوئی آنکھوں کی سب سے بڑی دعا اور زندگی کی واحد مراد بن چکی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
