“He has no strength to plead for justice on the Judgment Day, that guiltless soul who fell a victim to your ruthless gaze.”
جس بے گناہ پر تمہاری نگاہ سے ستم ہوا ہے، اس میں قیامت کے روز بھی فریاد کرنے اور انصاف مانگنے کی طاقت نہیں ہے۔
اس شعر میں محبوب کی قاتل نگاہوں کے اثر اور عاشق کے دل کی بے بسی کو کمال خوبصورتی سے باندھا گیا ہے۔ قیامت کا دن انصاف کا دن ہوگا جہاں ہر مظلوم اپنے حق کے لیے داد طلب کرے گا، مگر محبوب کی نگاہ کا گھائل عاشق اس روز بھی خاموش رہے گا۔ یہ عشق کی وہ انتہا ہے جہاں محبوب کے ستم کو بھی رحمت سمجھ کر دل میں چھپا لیا جاتا ہے اور شکوے کی کوئی سکت باقی نہیں رہتی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
