“To the eyes, this land is unknown.Millions upon millions of diamonds sparkle on the fingers of wet grass!”
آنکھوں کے لیے یہ زمین انجانی ہے۔ بھیگی گھاس کی انگلیوں پر لاکھوں لاکھوں ہیرے چمکتے ہیں!
یہ کتنی خوبصورت بات ہے، ہے نا؟ شاعر ایک ایسے منظر کا بیان کر رہے ہیں جو نیا یا نامانوس لگتا ہے، گویا وہ اسے پہلی بار دیکھ رہے ہوں۔ لیکن پھر، اتنی نزاکت سے، وہ بتاتے ہیں کہ گھاس کی پتیوں پر پڑی عام شبنم کی بوندیں کیسے 'لاکھوں ہیرے' بن کر گیلی گھاس کی 'انگلیوں' پر چمک رہی ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر ہم اپنی آنکھیں کھول کر واقعی دیکھیں تو عام سے عام چیزوں میں بھی بے پناہ حسن اور حیرت چھپی ہو سکتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
