غزل

یار کو ہم نے جا بہ جا دیکھا

یار کو ہم نے جا بہ جا دیکھا

یہ صوفیانہ غزل وحدت الوجود اور ذاتِ حق کی ہمہ گیری کا عکاس ہے، جس میں شاعر کائنات کے ہر مظہر میں محبوبِ حقیقی کا جلوہ دیکھتا ہے۔ یہ ہر شے میں، خواہ وہ ظاہر ہو یا باطن، فانی ہو یا باقی، خدا کے یکتا نور کے مشاہدے اور روحانی سرور کو بیان کرتی ہے۔

Source: Divan-e-Niyaz (Lucknow, 1960 reprint) · UR

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
یار کو ہم نے جا بہ جا دیکھا کہیں ظاہر، کہیں چھپا دیکھا
2
کہیں ممکن ہوا، کہیں واجب کہیں فانی، کہیں بقا دیکھا
3
کہیں بولا ”بلیٰ“ وہ کہہ کے ”اَلَسْتُ“ کہیں بندہ، کہیں خدا دیکھا
4
کہیں بیگانہ وش نظر آیا کہیں صورت سے آشنا دیکھا
5
کہیں ہے بادشاہِ تخت نشیں کہیں کاسہ لئے گدا دیکھا
6
کہیں عابد بنا، کہیں زاہد کہیں رندوں کا پیشوا دیکھا
7
کہیں رقاص اور کہیں مطرب کہیں وہ ساز باجتا دیکھا
8
کہیں وہ در لباسِ معشوقاں بر سرِ ناز اور ادا دیکھا
9
کہیں عاشق نیاز کی صورت سینہ بریاں و دل جلا دیکھا
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.