غزل

تمھارے عشق میں گر جان کے دینے سے میں اُڑتا

تمھارے عشق میں گر جان کے دینے سے میں اُڑتا

یہ غزل راہِ عشق میں جان نثار کرنے کے روحانی شرف اور عام موت کی بے ثباتی کا تقابل پیش کرتی ہے۔ شاعر کے نزدیک محبوب کی محبت میں فنا ہونا روحِ قدسی کا رتبہ پا کر امر ہو جانا ہے، جبکہ عام دنیاوی موت محض خاک میں مل جانا ہے۔

Source: Divan-e-Niyaz (Lucknow, 1960 reprint) · UR

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
تمھارے عشق میں گر جان کے دینے سے میں اُڑتا کوئی دن جی کے، آخر موت سے مرنا ہی پھر پڑتا
2
کہاں یہ عشق کا مرنا، کہاں وہ موت سر پڑنا یہاں بہ روحِ قدسی ہوں، وہاں زیرِ زمیں پڑتا
3
زیارت گاہِ عالم آج ہے یارو، مزار اپنا کہو حاسد کو تو بھی سایہ میرے آ، یہاں گڑتا
4
جو پروانے یا بلبل کی طرح مرنے سے تھم رہتا یہ رونا شمع کو اُسکے لئے تا صبح کیوں پڑتا؟
5
یہ سنگینی و سبکی تیری واعظ سب کھل جاتی ترازُوئے محبت میں اگر آ کر کے تو تڑتا
6
نیازؔ آخر ترا دل تخت ربّ العالمیں ہوتا خس و خاشاک غفلت سے اگر یہ خوب سا جھڑتا
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.