غزل

تمھارے دَورے میں ہم نے ساقی عجب ہی دورِ شراب دیکھا

تمھارے دَورے میں ہم نے ساقی عجب ہی دورِ شراب دیکھا

یہ غزل ساقی اور دورِ شراب کے استعارے کے ذریعے عشقِ حقیقی اور معرفت کی مستی کو خوبصورتی سے پیش کرتی ہے۔ اس میں واعظ و زاہد کی ظاہری پارسائی پر لطیف طنز کے ساتھ ساتھ حباب اور قطرے کی تمثیل سے ہستی کی بے ثباتی اور وحدت الوجود کے صوفیانہ فلسفے کو اجاگر کیا گیا ہے۔

Source: Divan-e-Niyaz (Lucknow, 1960 reprint) · UR

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
تمھارے دَورے میں ہم نے ساقی عجب ہی دورِ شراب دیکھا اِدھر تو واعظ گرا پڑا ہے، اُدھر کو زاہد خراب دیکھا
2
جو ایک تھپکی میں جز سے کل ہو، اور ایک قطرے سے ہوئے دریا تمام عالم میں تُو نے ہمدم، کوئی بھی مثلِ حباب دیکھا ؟
3
وہ مست مئے خوار ادھر کو آیا، مگر یہ لالچ ہے اُس کو لایا کہ میرے خوں کو شرابِ گلگوں، دل و جگر کو کباب دیکھا
4
چمن میں نرگس کہیں ہے بیمار اُس کی آنکھوں کو دیکھ کر کے کہیں ہے زُلفوں کے غم میں سنبل نے ہائے کیا پیچ و تاب دیکھا
5
تمھارے مکھڑے کو نیچے زلفوں کے دیکھ کر کیا مثال کہئے برائے گفتن مگر یہ کہئے کہ مہر زیرِ سحاب دیکھا
6
نہیں ہے دھوکا کچھ اس میں اے دل! کہ ہے یہ دھوکا طلسمِ عالم جو کچھ سُنا تھا سو ہے فسانہ، جو کچھ کہ دیکھا، سو خواب دیکھا
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.