غزل

تو نے اپنا جلوہ دکھانے کو، جو نقاب منھ سے اُٹھا دیا

تو نے اپنا جلوہ دکھانے کو، جو نقاب منھ سے اُٹھا دیا

اس غزل میں محبوب کی جلوہ نمائی کے سحر انگیز اثر اور عاشق کی محویت و بے خودی کو بیان کیا گیا ہے۔ محبوب کے رخ سے پردہ اٹھتے ہی عاشق حیرت کے عالم میں کھو جاتا ہے اور اس جلوۂ بے پناہ کے روبرو اس کی اپنی ہستی مٹ کر رہ جاتی ہے۔

Source: Divan-e-Niyaz (Lucknow, 1960 reprint) · UR

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
تو نے اپنا جلوہ دکھانے کو، جو نقاب منھ سے اُٹھا دیا وہیں محوِ حیرت و بے خودی، ہمیں آئینہ سا بنا دیا
2
وہ جو نقشِ پا کی طرح رہی تھی نمود اپنے وجود کی سو کشش نے دامنِ ناز کی، اسے بھی زمیں سے مٹا دیا
3
کیا ہی چین خوابِ عدم میں تھا، نہ تھا زلفِ یار کا کچھ خیال سو جگا کے شورِ ظہور نے، مجھے کس بلا میں پھنسا دیا
4
ذرا چھپ نگاہِ رقیب سے پڑی اُس گلی میں تھی میری خاک تو نے ایک جھونکے میں اے صبا، اسے بھی وہاں سے اُڑا دیا
5
رگ و پے میں آگ بھڑک اُٹھی، پھنکے ہے پڑا سبھی تن بدن مجھے ساقیا مئے آتشیں کا یہ جام کیسا پلا دیا ؟
6
یہ نہال شعلۂ حُسن کا، ترا بڑھ کے سر بہ فلک ہوا مری کاہِ ہستی نے مشتعل ہو، اُسے یہ نشو و نما دیا
7
جبھی جا کے مکتبِ عشق میں، سبقِ مقامِ فنا دیا جو لکھا پڑھا تھا نیاز نے، سبھی ایک پل میں بھلا دیا
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.