غزل

کیا جانے کس کی گھات میں نکلا کسا ہوا؟

کیا جانے کس کی گھات میں نکلا کسا ہوا؟

یہ غزل محبوب کے قاتلانہ حسن اور عاشق کے دل کی دائمی ویرانی کی عکاسی کرتی ہے۔ اگرچہ دل کا نگر عشق میں کب کا اجڑ چکا ہے، مگر زخموں اور داغوں کے چراغ اب بھی اس اجڑے ہوئے وجود کو روشن رکھے ہوئے ہیں۔

Source: Divan-e-Niyaz (Lucknow, 1960 reprint) · UR

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
کیا جانے کس کی گھات میں نکلا کسا ہوا؟ وہ شوخ ہاتھ قتلِ جہاں پر رسا ہوا
2
اپنا تو ملکِ دل ہے کبھی سے اُجڑ گیا لیکن چراغِ داغ سے کچھ ہے بَسا ہوا
3
دل خانۂ خدا ہے صنم! اسکو مت گرا ممکن نہیں جو پھر بسے، یہ گھر گرا ہوا
4
ہرگز نہ آئی تہر تجھے، میرے حال پر ہرچند آہ و نالہ بہ صبح و مَسا ہوا
5
ہوتا ہے کوئی خندۂ گل سے شگفتہ دل اس غنچہ لب کو دیکھا ہے جس نے ہنسا ہوا
6
اے مرغِ دل اُکھڑ گئے جب بال و پَر مرے کہہ کیا کرے گا دام سے چھُٹ کر پھنسا ہوا
7
پھولا نہیں سماتا ہے، جامے میں اپنے پھول یا اُس کی بُو میں پیرہن اپنا بَسا ہوا
8
بیٹھا نہیں ہے ایسا، مرے دل میں درد و غم بن جی لئے جو نکلے یہ کافر دَھنسا ہوا
9
مارا تمھاری زلف کا ہرگز نہ بچ سکے سو بار بچ رہا جو یہ افعی ڈَسا ہوا
10
ہوں میں نیاز مند جنابِ امیر کا اس واسطے میں صاحبِ فکرِ رسا ہوا
11
سن سن کے شورِ عشق کے حالات اے نیازؔ ڈر ڈر کے دل بغل میں ہے جاتا دھنسا ہوا
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

کیا جانے کس کی گھات میں نکلا کسا ہوا؟ | Sukhan AI