غزل

جوں ہی آمد آمدِ عشق کا، مجھے دل نے مژدہ سنا دیا

جوں ہی آمد آمدِ عشق کا، مجھے دل نے مژدہ سنا دیا

یہ غزل عشق کے اس پروقار اور پرتاثیر ظہور کو بیان کرتی ہے جس کی آمد کی نوید پاتے ہی عقل و ہوش اور صبر رخصت ہو جاتے ہیں۔ عشق کی اس روحانی بصیرت کی بدولت جس ذات کا دیدار ناممکن تھا، اس کا جلوہ کائنات کے ہر ذرے میں نمایاں دکھائی دینے لگتا ہے۔

Source: Divan-e-Niyaz (Lucknow, 1960 reprint) · UR

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
جوں ہی آمد آمدِ عشق کا، مجھے دل نے مژدہ سنا دیا خرد و حواس و شکیب نے وہیں کوسِ کوچ بجا دیا
2
جسے دیکھنا ہی محال تھا، نہ تھا اُس کا نام و نشاں کہیں سو ہر ایک ذرّے میں عشق نے، ہمیں اس کا جلوہ دکھا دیا
3
کروں کیا بیاں میں ہم نشیں، اثر اُس کی لطفِ نگاہ کا کہ تعیّنات کی قید سے، مجھے ایک دم میں چھڑا دیا
4
مرے چکھنے کے لئے ایک جرعہ بھی اُس شراب کا تھا بہت تو نے سیر چشمی سے ساقیا، سرِ خُم کو لے کے جھکا دیا
5
مجھے عشقِ دل سے ہی کام تھا، نہ کہ استخوان کو پھونکنا غضب ایک شیر کے واسطے، تو نے نیستان کو جلا دیا
6
تری ناصحا یہ چناں چنیں، کہ ہیں خود پسندی کے سب قریں نہ دکھائی دے گی تجھے کبھی، کہیں جو بھی کسی نے بجھا دیا
7
رکھے ہیں نیازؔ یہ اہلِ دل، ترے شعر سننے کا اشتیاق غزل ایک دوسری اور کہہ، تجھے حق نے فکرِ رسا دیا
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.