যদি তারে নাই চিনি গো, সে কি আমায় নেবে চিনে?
পারব কি গো ডাকতে তারে 'আমার' বলে মনে মনে?
“যদি তারে নাই চিনি গো, সে কি আমায় নেবে চিনে? পারব কি গো ডাকতে তারে 'আমার' বলে মনে মনে?”
— رابندرناتھ ٹیگور
معنی
اگر میں انہیں نہیں پہچانتا، تو کیا وہ مجھے پہچانیں گے؟ کیا میں دل ہی دل میں انہیں 'میرا' کہہ کر بلا سکوں گا؟
تشریح
یہ خوبصورت شعر دل کی ان خاموش پریشانیوں کو چھوتا ہے جب کوئی نیا رشتہ پروان چڑھ رہا ہوتا ہے۔ یہ ایسا ہے جیسے خود سے ہی پوچھنا، "اگر میں انہیں ابھی پوری طرح سے نہیں جانتا، تو کیا وہ مجھے کسی طرح پہچانیں گے؟" اس میں ایک نازک امید اور کمزوری ہے، کیونکہ شاعر پوچھتا ہے کہ کیا اسے کبھی اس خاص شخص کو اپنے گہرے، سب سے نجی خیالات میں 'اپنا' کہنے کی ہمت یا حق مل پائے گا۔ یہ آرزو اور غیر یقینی کے اس نازک رقص کو اتنی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
1 / 3Next →
