غزل
اگر اُسے نہ پہچانوں
اگر اُسے نہ پہچانوں
یہ غزل کسی محبوب یا خدا کے لیے شاعر کی گہری آرزو اور غیر یقینی کی کیفیت کو بیان کرتی ہے۔ شاعر سوچتا ہے کہ اگر وہ انہیں پہچانتا نہیں تو کیا وہ اسے پہچانیں گے، اور کیا وہ کبھی انہیں 'اپنا' کہہ پائے گا۔ یہ تنہا انتظار کو ظاہر کرتا ہے جو امید اور عقیدت سے بھرا ہے، ایک ایسی ملاقات کے لیے جو شاید کبھی ہو یا نہ ہو۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
যদি তারে নাই চিনি গো, সে কি আমায় নেবে চিনে?
পারব কি গো ডাকতে তারে 'আমার' বলে মনে মনে?
اگر میں انہیں نہیں پہچانتا، تو کیا وہ مجھے پہچانیں گے؟ کیا میں دل ہی دل میں انہیں 'میرا' کہہ کر بلا سکوں گا؟
2
আলো হাতে চলিয়াছে আঁধারের যাত্রী,
আমি শুধু তার পথ চেয়ে থাকি॥
اندھیرے کا ایک مسافر ہاتھ میں روشنی لیے چل رہا ہے، اور میں بس اس کے راستے کا انتظار کرتا ہوں۔
3
জানি না, জানি না কবে পাব দেখা,
এই প্রতীক্ষায় কাটে আমার দিন একা একা॥
مجھے نہیں معلوم، مجھے نہیں معلوم کب ملاقات ہوگی۔ اسی انتظار میں میرے دن تنہا گزرتے ہیں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
