غزل
یہ ہوا مآل حباب کا جو ہوا میں بھر کے ابھر گیا
یہ ہوا مآل حباب کا جو ہوا میں بھر کے ابھر گیا
یہ غزل حباب کی علامت کے ذریعے انسانی زندگی کی ناپائیداری اور غرور کے عبرت ناک انجام کو بیان کرتی ہے۔ اس میں تقدیر کے سامنے انسان کی بے بسی کا فلسفیانہ اظہار ہے اور ساتھ ہی عشق و شوق کی اُس قوت کو سراہا گیا ہے جو تھکے ہوئے دل کو بھی آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
ये हुआ मआल हुबाब का जो हवा में भर के उभर गया
कि सदा है लुतमा-ए-मौज की सर-ए-पुर-ग़ुरूर किधर गया
یہ ہوا مآل حباب کا جو ہوا میں بھر کے ابھر گیا
کہ صدا ہے لطمۂ موج کی سر پر غرور کدھر گیا
2
मुझे जज़्ब-ए-दिल ने ऐ जुज़ बहक के रखा क़दम कोई
मुझे पर लगाए शौक़ ने कहीं थक के मैं जो ठहर गया
مجھے جذب دل نے اے جز بہک کے رکھا قدم کوئی
مجھے پر لگائے شوق نے کہیں تھک کے میں جو ٹھہر گیا
3
मुझे पीरी और शबाब में जो है इम्तियाज़ तो इस क़दर
कोई झोंका बाद-ए-सहर का था मिरे पास से जो गुज़र गया
مجھے پیری اور شباب میں جو ہے امتیاز تو اس قدر
کوئی جھونکا باد سحر کا تھا مرے پاس سے جو گزر گیا
4
असर उस के इश्वा-ए-नाज़ का जो हुआ वो किस से बयाँ करूँ
मुझे तो अजल की है आरज़ू उसे वहम है कि ये मर गया
اثر اس کے عشوۂ ناز کا جو ہوا وہ کس سے بیاں کروں
مجھے تو اجل کی ہے آرزو اسے وہم ہے کہ یہ مر گیا
5
तुझे ऐ ख़तीब-ए-चमन नहीं ख़बर अपने ख़ुत्बा-ए-शौक़ में
कि किताब-ए-गुल का वरक़ वरक़ तिरी बे-ख़ुदी से बिखर गया
تجھے اے خطیب چمن نہیں خبر اپنے خطبۂ شوق میں
کہ کتاب گل کا ورق ورق تری بے خودی سے بکھر گیا
6
किसे तू सुनाता है हम-नशीं कि है इश्वा-ए-दुश्मन-ए-अक़्ल-ओ-दीं
तिरे कहने का है मुझे यक़ीं मैं तिरे डराने से डर गया
کسے تو سناتا ہے ہم نشیں کہ ہے عشوۂ دشمن عقل و دیں
ترے کہنے کا ہے مجھے یقیں میں ترے ڈرانے سے ڈر گیا
7
करूँ ज़िक्र क्या मैं शबाब का सुने कौन क़िस्सा ये ख़्वाब का
ये वो रात थी कि गुज़र गई ये वो नश्शा था कि उतर गया
کروں ذکر کیا میں شباب کا سنے کون قصہ یہ خواب کا
یہ وہ رات تھی کہ گزر گئی یہ وہ نشہ تھا کہ اتر گیا
8
दिल-ए-ना-तवाँ को तकान हो मुझे उस की ताब न थी ज़रा
ग़म-ए-इंतिज़ार से बच गया था नवेद-ए-वस्ल से मर गया
دل ناتواں کو تکان ہو مجھے اس کی تاب نہ تھی ذرا
غم انتظار سے بچ گیا تھا نوید وصل سے مر گیا
9
मिरे सब्र-ओ-ताब के सामने न हुजूम-ए-ख़ौफ़-ओ-रजा रहा
वो चमक के बर्क़ रह गई वो गरज के अब्र गुज़र गया
مرے صبر و تاب کے سامنے نہ ہجوم خوف و رجا رہا
وہ چمک کے برق رہ گئی وہ گرج کے ابر گزر گیا
10
मुझे बहर-ए-ग़म से उबूर की नहीं फ़िक्र ऐ मिरे चारा-गर
नहीं कोई चारा-कार अब मिरे सर से आब गुज़र गया
مجھے بحر غم سے عبور کی نہیں فکر اے مرے چارہ گر
نہیں کوئی چارہ کار اب مرے سر سے آب گزر گیا
11
मुझे राज़-ए-इश्क़ के ज़ब्त में जो मज़ा मिला है न पूछिए
मय-ए-अँगबीं का ये घूँट था कि गले से मेरे उतर गया
مجھے راز عشق کے ضبط میں جو مزہ ملا ہے نہ پوچھیے
مے انگبیں کا یہ گھونٹ تھا کہ گلے سے میرے اتر گیا
12
नहीं अब जहान में दोस्ती कभी रास्ते में जो मिल गए
नहीं मतलब एक को एक से ये इधर चला वो उधर गया
نہیں اب جہان میں دوستی کبھی راستے میں جو مل گئے
نہیں مطلب ایک کو ایک سے یہ ادھر چلا وہ ادھر گیا
13
अगर आ के ग़ुस्सा नहीं रहा तो लगी थी आग कि बुझ गई
जो हसद का जोश फ़रो हुआ तो ये ज़हर चढ़ के उतर गया
اگر آ کے غصہ نہیں رہا تو لگی تھی آگ کہ بجھ گئی
جو حسد کا جوش فرو ہوا تو یہ زہر چڑھ کے اتر گیا
14
तुझे 'नज़्म' वादी-ए-शौक़ में अबस एहतियात है इस क़दर
कहीं गिरते गिरते सँभल गया कहीं चलते चलते ठहर गया
تجھے نظمؔ وادئ شوق میں عبث احتیاط ہے اس قدر
کہیں گرتے گرتے سنبھل گیا کہیں چلتے چلتے ٹھہر گیا
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
