سنگ جفا کا غم نہیں دست طلب کا ڈر نہیں اپنا ہے اس پر آشیاں نخل جو بارور نہیں

“No grief from stones of cruelty, no fear of grasping hands; upon a tree that bears no fruit, my humble shelter stands.”

— نظم طباطبائی
معنی

مجھے نہ تو ظلم کے پتھروں کا کوئی غم ہے اور نہ ہی مانگنے والے ہاتھوں کا کوئی خوف، کیونکہ میرا گھونسلا اس درخت پر ہے جو پھل دار نہیں ہے۔

تشریح

شاعر یہاں دنیا کے لالچ اور نظروں سے محفوظ رہنے کا ایک خوبصورت فلسفہ بیان کر رہے ہیں۔ دنیا پتھر بھی اسی درخت پر مارتی ہے اور ہاتھ بھی اسی کی طرف بڑھاتی ہے جو پھلوں سے لدا ہو، لیکن شاعر نے اپنا آشیاں ایک ایسے درخت پر بنایا ہے جو بے ثمر ہے۔ یہ شعر دراصل درویشانہ بے نیازی کی علامت ہے، جہاں انسان کے پاس دنیاوی حرص کی کوئی شے نہ ہو تو وہ ہر قسم کے خوف اور ستم سے آزاد ہو کر سچے سکون میں رہتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

1 / 15Next →