غزل

کیا کہیں کس سے پیار کر بیٹھے

کیا کہیں کس سے پیار کر بیٹھے
نظم طباطبائی· Ghazal· 6 shers· radif: कर बैठे

یہ غزل محبت میں گرفتار ہونے کی بے بسی، پچھتاوے اور اس سے پہنچنے والے دلی صدمے کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر اپنے دل کے گھائل ہونے اور صبر و ضبط کی آخری حدیں بھی تار تار ہو جانے کے کرب کو درد مندی سے بیان کرتا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
क्या कहें किस से प्यार कर बैठे अपने दिल को फ़िगार कर बैठे
کیا کہیں کس سے پیار کر بیٹھے اپنے دل کو فگار کر بیٹھے
2
सब्र की इक क़बा जो बाक़ी थी उस को भी तार तार कर बैठे
صبر کی اک قبا جو باقی تھی اس کو بھی تار تار کر بیٹھے
3
आज फिर उन की आमद आमद है हम ख़िज़ाँ को बहार कर बैठे
آج پھر ان کی آمد آمد ہے ہم خزاں کو بہار کر بیٹھے
4
वाए उस बुत का वा'दा-ए-फ़र्दा उम्र भर इंतिज़ार कर बैठे
وائے اس بت کا وعدۂ فردا عمر بھر انتظار کر بیٹھے
5
ख़ुद जो ग़म हैं तो आइना हैराँ किस ग़ज़ब का सिंघार कर बैठे
خود جو غم ہیں تو آئنہ حیراں کس غضب کا سنگھار کر بیٹھے
6
हम तही-दस्त तुझ को क्या देते जान तुझ पर निसार कर बैठे
ہم تہی دست تجھ کو کیا دیتے جان تجھ پر نثار کر بیٹھے
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.