غزل
کیا کہیں کس سے پیار کر بیٹھے
کیا کہیں کس سے پیار کر بیٹھے
یہ غزل محبت میں گرفتار ہونے کی بے بسی، پچھتاوے اور اس سے پہنچنے والے دلی صدمے کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر اپنے دل کے گھائل ہونے اور صبر و ضبط کی آخری حدیں بھی تار تار ہو جانے کے کرب کو درد مندی سے بیان کرتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
क्या कहें किस से प्यार कर बैठे
अपने दिल को फ़िगार कर बैठे
کیا کہیں کس سے پیار کر بیٹھے
اپنے دل کو فگار کر بیٹھے
2
सब्र की इक क़बा जो बाक़ी थी
उस को भी तार तार कर बैठे
صبر کی اک قبا جو باقی تھی
اس کو بھی تار تار کر بیٹھے
3
आज फिर उन की आमद आमद है
हम ख़िज़ाँ को बहार कर बैठे
آج پھر ان کی آمد آمد ہے
ہم خزاں کو بہار کر بیٹھے
4
वाए उस बुत का वा'दा-ए-फ़र्दा
उम्र भर इंतिज़ार कर बैठे
وائے اس بت کا وعدۂ فردا
عمر بھر انتظار کر بیٹھے
5
ख़ुद जो ग़म हैं तो आइना हैराँ
किस ग़ज़ब का सिंघार कर बैठे
خود جو غم ہیں تو آئنہ حیراں
کس غضب کا سنگھار کر بیٹھے
6
हम तही-दस्त तुझ को क्या देते
जान तुझ पर निसार कर बैठे
ہم تہی دست تجھ کو کیا دیتے
جان تجھ پر نثار کر بیٹھے
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
