“The rose is wounded head to foot, yet it remains all ears; not entirely in vain, then, are the frantic nightingale's tears.”
پھول سر تا پا زخموں سے چور ہے مگر پھر بھی ہمہ تن گوش ہو کر سن رہا ہے، یعنی عاشق بلبل کی فریادیں بالکل بے اثر نہیں ہیں۔
اس شعر میں شاعر نے گل اور بلبل کے روایتی تعلق کے ذریعے محبت کی ایک بہت نازک کیفیت بیان کی ہے۔ محبوب بظاہر خود سراپا درد اور زخموں سے چور ہے، مگر اس کے باوجود وہ سراپا گوش بن کر اپنے عاشق کی فریاد سن رہا ہے۔ اس سے یہ حقیقت کھلتی ہے کہ عاشق کی نالہ و فغاں ہرگز رائیگاں نہیں گئی، بلکہ محبوب کی خاموشی کے پردے میں بھی اس کا اثر صاف جھلک رہا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
