غزل

न इक याक़ूब रोया इस अलम में

न इक याक़ूब रोया इस अलम में
میر تقی میر· Ghazal· 3 shers

یہ غزل ایک گہرے جذباتی تھکاوٹ کا اظہار کرتی ہے، جو بتاتی ہے کہ کسی کے غم یا دکھ پر کوئی آنسو نہیں بہا سکتا کیونکہ شاعر خود درد اور مایوسی کے گہرے سمندر میں ڈوبا ہوا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اب اس کی نظروں میں کوئی چیز اسے اپنی طرف کھینچ نہیں سکتی۔ یہ غزل 'میر' کے ذریعے محبت کے گہرے تجربے اور خود میں موجود فنکارانہ مہارت کی عکاسی کرتی ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
न इक याक़ूब रोया इस अलम में कुआँ अंधा हुआ यूसुफ़ के ग़म में
نہ اک یعقوب رویا اس الم میں کنواں اندھا ہوا یوسف کے غم میں
نہ اک یاقوب رویا اس عالم میں، کنواں اندھا ہوا یوسف کے غم میں۔
2
कहूँ कब तक दम आँखों में है मेरी नज़र आवे ही-गा अब कोई दम में
کہوں کب تک دم آنکھوں میں ہے میری نظر آوے ہی گا اب کوئی دم میں
بتاؤ میری آنکھوں میں ابھی کتنا دم باقی ہے، کیونکہ میری نظر میں اب کوئی جوش یا جنون نہیں رہا۔
3
दया आशिक़ ने जी तो ऐब क्या है यही 'मीर' इक हुनर होता है हम में
دیا عاشق نے جی تو عیب کیا ہے یہی میرؔ اک ہنر ہوتا ہے ہم میں
اگر عاشق نے جی تو عیب کیا ہے، یہی 'میر' اک ہنر ہوتا ہے ہم میں۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.