“If its fragrance stirs even a painted nightingale to ecstasy, with what face can the rose-hued one dare claim equality?”
جس کی خوشبو سے تصویر کی بے جان بلبل بھی وجد میں آ جائے، اس سے کوئی گل رنگ بھلا کس منہ سے برابری کا دعویٰ کر سکتا ہے۔
شاعر نے اس شعر میں محبوب کے حسن اور اس کی خوشبو کے اعجاز کو کمال خوبصورتی سے باندھا ہے، جہاں تصویر میں بنی ایک بے جان بلبل بھی اُس کی مہک سے جھوم کر وجد میں آ جاتی ہے۔ جب ایک بے حس و حرکت نقش بھی اس خوشبو کے اثر سے زندہ ہو اٹھے، تو پھر گلاب یا کسی دوسرے حسین کو اس کے روبرو اپنے حسن پر ناز کرنے کا کیا حق حاصل ہے؟ یہ محبوب کے بے مثل اور لاجواب ہونے کا ایک دلکش اور والہانہ اعتراف ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
